6

قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان،ایک سال، ایک عزم، ایک قومی مشن

قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت، فیلڈ مارشل سی ڈی ایف حافظ سید عاصم منیر کے وژن کے مطابق، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی صدارت اور علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی کی کوآرڈینیشن میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء و مشائخ اور تمام مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر پاکستان میں امن، اتحاد، قومی یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی، بین المذاہب رواداری اور ملکی استحکام کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی اس قومی سوچ کی عملی صورت ہے کہ پاکستان کے امن و استحکام کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ علماء و مشائخ، مذہبی قیادت، سیاسی و سماجی شخصیات، تعلیمی اداروں، میڈیا، نوجوانوں اور معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور برصغیر کے مسلمانوں کی لازوال جدوجہد، قربانیوں اور بے مثال عزم کا ثمر ہے۔ یہ ملک محض ایک جغرافیائی خطے کے حصول کا نام نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک تہذیبی شناخت، ایک اجتماعی خواب اور ایک روشن مستقبل کی امید کا نام ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران لاکھوں مسلمانوں نے اپنے جان و مال کی قربانیاں دیں تاکہ ایک ایسی آزاد ریاست قائم ہو جہاں مسلمان اپنی مذہبی، تہذیبی اور معاشرتی اقدار کے مطابق زندگی بسر کر سکیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جس کی بنیاد عدل، مساوات، اخوت، رواداری اور انسانی احترام پر ہو۔ آج جب ہم پاکستان کے قیام کے مقصد اور اپنے قومی سفر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ ملک کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کسی ایک ادارے، جماعت یا طبقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

موجودہ دور میں پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ وارانہ کشیدگی، مذہبی منافرت، سیاسی و سماجی تقسیم، علاقائی تعصبات، جھوٹی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کا پھیلاؤ، نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوششیں اور مختلف نوعیت کے داخلی و خارجی خطرات شامل ہیں۔ ایسے حالات میں صرف انتظامی اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ قوم کو ایک مضبوط، مثبت اور متفقہ قومی بیانیے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ امن صرف اس وقت پائیدار بنتا ہے جب ریاستی ادارے، علماء و مشائخ، سیاسی و سماجی قیادت، تعلیمی ادارے، میڈیا، نوجوان اور عام شہری سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اسی قومی ضرورت کے پیش نظر قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد گزشتہ ایک سال کے دوران امن، اتحاد، قومی یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی، بین المذاہب رواداری اور ملکی استحکام کے فروغ کے لیے مختلف سطحوں پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کا ایک سالہ سفر دراصل چند تقریبات، اجلاسات یا کانفرنسز کا مجموعہ نہیں بلکہ قومی رابطے، مکالمے، شعور اور اجتماعی ذمہ داری کو مضبوط بنانے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔ اس سفر کی سب سے اہم خصوصیت اس کا ملک گیر دائرۂ کار ہے۔ کمیٹی کا پیغام کسی ایک شہر، صوبے یا خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں تک امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کا پیغام پہنچایا گیا۔ مختلف علاقوں میں علماء و مشائخ، سیاسی و سماجی شخصیات، حکومتی نمائندوں، انتظامیہ، ریاستی اداروں، تعلیمی و مذہبی شخصیات اور عوامی نمائندوں سے رابطے کیے گئے۔ اس ملک گیر سفر کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود مسائل، احساسات اور ضروریات کو قومی تناظر میں سمجھا جائے اور امن و استحکام کے لیے مشترکہ سوچ کو فروغ دیا جائے۔

پنجاب میں مختلف مذہبی، سماجی اور قومی سرگرمیوں کے ذریعے امن، رواداری، قومی یکجہتی اور پاکستان کے استحکام کے پیغام کو عام کیا گیا۔ سندھ میں امن، بھائی چارے، مذہبی رواداری اور باہمی احترام کی تاریخی روایت کو قومی ضرورتوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ بلوچستان جیسے اہم اور حساس خطے میں امن، ترقی، قومی وحدت اور ریاست کے ساتھ عوامی تعلق کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف عوام، علماء، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور امن کے لیے مشترکہ کردار پر زور دیا گیا۔ گلگت بلتستان میں سیاسی، مذہبی اور ریاستی سطح پر اہم رابطے کیے گئے اور علاقے کی امن و سلامتی، قومی یکجہتی اور ملکی استحکام سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی، جبکہ آزاد کشمیر کو بھی قومی امن و رابطہ کاری کے اس سفر کا حصہ بنایا گیا۔ یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ گلگت بلتستان قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ملک گیر سفر کا ایک اہم باب ہے، لیکن کمیٹی کی سرگرمیاں صرف گلگت بلتستان تک محدود نہیں رہیں بلکہ ملک کے تمام بڑے صوبوں اور خطوں تک پھیلتی ہیں۔ یہی اس کمیٹی کے قومی کردار کی اصل روح ہے۔

پاکستان میں علماء و مشائخ معاشرے کی فکری اور اخلاقی تشکیل میں ایک اہم کردار رکھتے ہیں۔ مسجد، مدرسہ، منبر اور محراب عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ایسے مراکز ہیں جہاں سے معاشرے کی سمت متعین کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر منبر سے امن، اخوت، برداشت، قانون کی پاسداری، وطن سے محبت اور انسانی جان کے احترام کا پیغام بلند ہو تو اس کے اثرات معاشرے میں دور تک پہنچتے ہیں۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے علماء و مشائخ کو قومی امن کے مشن میں شریک کرنے، ان کے درمیان روابط بڑھانے اور مختلف مکاتبِ فکر کو مشترکہ قومی مقاصد کے لیے ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی۔ مختلف مواقع پر علماء کانفرنسیں، مذہبی اجتماعات، قومی رابطہ پروگرام اور امن کے حوالے سے فکری نشستیں اسی سوچ کا حصہ رہیں۔

اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ علمی اور فقہی اختلافات کے باوجود امت کے اندر اخوت اور باہمی احترام کی روایت ہمیشہ موجود رہی ہے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے اور مسلکی اختلاف کو معاشرتی انتشار کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ بین المسالک ہم آہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ علمی اختلافات ختم کر دیے جائیں بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام، مکالمہ، حسنِ اخلاق اور قومی اتحاد برقرار رکھا جائے۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور مشترکہ قومی مسائل پر گفتگو کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ عوام تک یہ پیغام پہنچایا جا سکے کہ پاکستان کی سلامتی اور امن سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اسی طرح بین المذاہب ہم آہنگی بھی ایک پرامن اور مضبوط پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان میں مسلمان اکثریت کے ساتھ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہری بھی آباد ہیں اور وہ پاکستان کے برابر کے شہری ہیں۔ ان کے حقوق، جان و مال اور مذہبی آزادی کا تحفظ ریاستی اور معاشرتی ذمہ داری ہے۔ اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے دوسرے مذاہب کے شہریوں کے انسانی وقار اور شہری حقوق کا احترام کرنا اسلامی اخلاقیات اور قومی ذمہ داری دونوں کا تقاضا ہے۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مذہبی رواداری، باہمی احترام اور بین المذاہب مکالمے کو امن کے وسیع تر تصور کا حصہ سمجھا ہے، کیونکہ ایسا معاشرہ جہاں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے وجود اور حقوق کا احترام کرتے ہوں، وہ زیادہ مضبوط، پُرامن اور مستحکم ہوتا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑی ہے۔ اس جنگ میں ہماری مسلح افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آج پاکستان میں امن کی جو بھی فضا موجود ہے، اس کے پیچھے ہمارے شہداء کا خون اور ان کے خاندانوں کی قربانیاں ہیں۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مختلف مواقع پر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دہشت گردی، انتہاپسندی اور تشدد کے خلاف واضح قومی موقف اختیار کیا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے فکری، تعلیمی، معاشرتی اور نظریاتی سطح پر بھی ایک مضبوط قومی حکمتِ عملی درکار ہے۔ جب معاشرے میں علم، شعور، اعتدال، مکالمے اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا تو انتہاپسند عناصر کے لیے نوجوانوں اور عام شہریوں کو اپنے منفی مقاصد کے لیے استعمال کرنا مشکل ہو جائے گا۔

ہمارے شہداء ہماری قومی تاریخ کے روشن باب ہیں۔ ان میں سے ہر شہید کے پیچھے ایک خاندان، ایک ماں، ایک باپ، ایک بیوی، بچے اور بے شمار خواب ہوتے ہیں۔ وطن کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنے والے ان عظیم لوگوں کو صرف قومی دنوں پر یاد کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی قربانیوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا مستقل حصہ بنانا ہوگا۔ شہداء کے خاندانوں کا احترام، ان کی قربانیوں کا اعتراف اور ان کے مشن کی تکمیل ہی دراصل شہداء سے وفاداری ہے۔ ایک محفوظ، متحد، پرامن اور مضبوط پاکستان ہی ان قربانیوں کا حقیقی صلہ ہو سکتا ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی نے ریاستی اداروں کے ساتھ قومی یکجہتی کے پیغام کو بھی اہمیت دی۔ پاکستان کی مسلح افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع، امن اور سلامتی کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حساس قومی معاملات میں عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد، تعاون اور ذمہ دارانہ رابطہ انتہائی ضروری ہے۔ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک فطری امر ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی، تشدد یا ریاستی اداروں کے خلاف نفرت میں تبدیل کرنا قومی مفاد نہیں۔ قومی سلامتی کے معاملات میں ذمہ داری، بصیرت اور اعتدال کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان میں امن کے قومی بیانیے کی تشکیل کے حوالے سے پیغامِ پاکستان کی فکری روایت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ علماء و مشائخ نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف مذہبی اور اخلاقی بنیادوں پر واضح موقف اختیار کیا ہے۔ قومی پیغامِ امن اسی مثبت سوچ کو عملی سطح پر مزید آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے تاکہ مذہبی طبقہ قومی سلامتی، امن، رواداری اور ریاستی استحکام کے عمل میں ایک مؤثر شراکت دار کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ ہمارا یقین ہے کہ اسلام امن، عدل، اعتدال، رواداری اور انسانی جان کے احترام کا دین ہے، اس لیے اسلام کے نام پر دہشت گردی، بے گناہوں کا قتل اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر نہ اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ پاکستان کے مفاد کی۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ایک سالہ سفر میں قومی اور علاقائی حالات کے حوالے سے مختلف سطحوں پر رابطے اور مشاورت بھی اہم رہی۔ پشاور میں منعقد ہونے والی پیغامِ امن علماء و مشائخ کانفرنس سے لے کر گلگت بلتستان میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں تک، مختلف مواقع پر علماء، مشائخ، حکومتی شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور متعلقہ اداروں سے روابط کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ امن کے مسئلے کو صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پورے پاکستان کی مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے۔ پشاور کی سرزمین نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دیکھی ہیں، جبکہ گلگت بلتستان امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے حوالے سے ایک اہم خطہ ہے۔ دونوں جگہوں کے تجربات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ مقامی امن دراصل قومی امن کا حصہ ہے۔

گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ سے ملاقات اور دیگر اہم رابطوں میں علاقے کی صورتحال، امن و استحکام، قومی وحدت، دفاعی اداروں کے کردار اور ملکی سلامتی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال ہوا۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے وہاں یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں امن و استحکام پورے ملک کے مفاد میں ہے۔ اسی طرح ریاستی و سیکیورٹی حکام سے ملاقاتوں میں بھی امن کے قیام، قومی اتحاد اور عوام و اداروں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔ ان رابطوں کو کسی ایک خطے تک محدود سمجھنا درست نہیں؛ یہ کمیٹی کے وسیع تر ملک گیر مشن کا ایک حصہ ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات بھی قومی و مسلم دنیا کے وسیع تر تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ مکہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ سلامتی و استحکام، باہمی تعاون اور مسلم دنیا کے وسیع تر مفادات پر گفتگو بھی امن کے اسی وسیع تصور کا حصہ ہے۔ پاکستان ہمیشہ مسلم دنیا کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا حامی رہا ہے اور سعودی عرب و ترکی کے ساتھ اس کے تعلقات تاریخی اور عوامی سطح پر گہری محبت و احترام پر مبنی ہیں۔ اگر مسلم دنیا کے اہم ممالک امن، سلامتی، استحکام اور باہمی تعاون کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

قومی پیغامِ امن کا دائرہ صرف دہشت گردی یا مذہبی ہم آہنگی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ قومی زندگی کے تمام مثبت پہلوؤں کو اس کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ یومِ آزادی جیسے قومی مواقع ہمیں اپنی تاریخ، آزادی کی قدر اور مستقبل کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہیں۔ آزادیٔ وطن، شکرِ نعمت اور عزمِ استحکامِ پاکستان جیسے پیغامات دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ آزادی ایک نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت صرف سرحدوں کی حفاظت سے نہیں بلکہ قومی اتحاد، تعلیم، قانون کی پاسداری، معاشی ترقی، سماجی انصاف اور امن کے فروغ سے بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح شجرکاری اور ماحول کے تحفظ جیسی سرگرمیاں بھی قومی تعمیر کا حصہ ہیں۔ ایک صاف، سرسبز اور صحت مند پاکستان ہی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ مستقبل فراہم کر سکتا ہے۔ اسی لیے گرین پاکستان اور مضبوط پاکستان کا تصور ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان ہمارے مستقبل کے اصل معمار ہیں۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، تحقیق، ہنر، مثبت سرگرمیوں اور قومی خدمت کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل پاکستان کو ترقی اور استحکام کی نئی منزلوں تک لے جا سکتی ہے۔ لیکن اگر نوجوانوں کو نفرت، انتہاپسندی، منفی پروپیگنڈے، بے مقصد سرگرمیوں اور جھوٹی خبروں کے حوالے کر دیا جائے تو قومی مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے امن کے قومی مشن میں نوجوانوں کو مرکزی حیثیت دینا ناگزیر ہے۔ مدارس، جامعات، کالجز، اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں امن، برداشت، اختلافِ رائے کے آداب، شہری ذمہ داری اور قومی یکجہتی کے موضوعات پر علمی و فکری سرگرمیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آج سوشل میڈیا ہماری اجتماعی زندگی کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک خبر چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی رفتار سے جھوٹی خبر، افواہ، نفرت انگیز مواد یا گمراہ کن پروپیگنڈا بھی معاشرے میں انتشار پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے امن کا قومی بیانیہ سوشل میڈیا سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ علماء، نوجوان، صحافی اور میڈیا ماہرین مل کر ایسا مثبت ڈیجیٹل ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جہاں تحقیق کے بغیر خبر آگے بڑھانے کے بجائے تصدیق کی روایت ہو، نفرت کے مقابلے میں محبت، افواہ کے مقابلے میں حقیقت، انتشار کے مقابلے میں اتحاد اور مایوسی کے مقابلے میں امید کا پیغام عام ہو۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مستقبل کے سفر میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مزید مؤثر انداز میں استعمال کرنا ایک اہم ضرورت ہے۔

میڈیا بھی قومی امن کے فروغ میں ایک نہایت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیا عوام کو معلومات فراہم کرتا ہے، قومی مباحث کو سمت دیتا ہے اور ریاست و معاشرے کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ آزادیٔ اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ حساس قومی معاملات میں غیر مصدقہ اطلاعات، سنسنی خیزی اور نفرت انگیز مواد معاشرتی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا امن، رواداری، قومی وحدت، بین المسالک ہم آہنگی اور مثبت قومی بیانیے کو بھی بھرپور جگہ دے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ایک سالہ سفر کا سب سے اہم حاصل کسی ایک تقریب یا کسی ایک شہر کی سرگرمی نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں قومی رابطے اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کرنا ہے۔ جب پنجاب کا شہری سندھ کے امن کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، جب بلوچستان کی ترقی کو پورے پاکستان کی ترقی قرار دیا جاتا ہے، جب خیبر پختونخوا کے شہداء کی قربانیوں کو پورا ملک سلام پیش کرتا ہے، جب گلگت بلتستان کے امن کو قومی سلامتی کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور جب آزاد کشمیر سمیت پاکستان کے تمام علاقوں کی آواز قومی وحدت میں شامل ہوتی ہے تو یہی حقیقی پاکستان ہے۔

یہ ایک سال ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ امن صرف تقریر کا موضوع نہیں بلکہ مسلسل عمل کا نام ہے۔ امن کانفرنس منعقد کرنا ایک قدم ہے، لیکن امن کو گھروں، مدارس، مساجد، اسکولوں، جامعات، بازاروں، میڈیا اور سوشل میڈیا تک لے جانا اصل کامیابی ہے۔ ایک بیان دینا آسان ہے، اپنے عمل سے امن ثابت کرنا مشکل ہے۔ اسی لیے قومی پیغامِ امن کو تقریبات سے آگے لے جا کر معاشرے کے روزمرہ رویوں کا حصہ بنانا ہوگا۔

آنے والے پانچ برس قومی پیغامِ امن کمیٹی کے لیے ایک نئے اور زیادہ منظم مرحلے کا آغاز ہو سکتے ہیں۔ ملک بھر میں علماء و مشائخ کے رابطہ نیٹ ورک کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے، امن سفیر پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو قومی خدمت سے جوڑا جا سکتا ہے، مدارس اور جامعات میں امن و رواداری کے حوالے سے علمی پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں، بین المسالک و بین المذاہب مکالمے کے مستقل فورمز قائم کیے جا سکتے ہیں، شہداء کے خاندانوں کے ساتھ قومی یکجہتی کے پروگراموں کو منظم کیا جا سکتا ہے، سوشل میڈیا پر مستند اور مثبت قومی بیانیے کے لیے خصوصی پلیٹ فارم تشکیل دیے جا سکتے ہیں اور دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت، اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز پروپیگنڈے جیسے موضوعات پر تحقیقی کام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ امن کے لیے کام کرنے والے اداروں، جامعات، مدارس، میڈیا اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے مستقبل کے لیے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اختلاف کو مکالمے میں تبدیل کریں گے، نفرت کو محبت میں بدلیں گے، علاقائی شناختوں کو قومی وحدت کا حصہ بنائیں گے، مذہبی اختلاف کو احترام کے ساتھ قبول کریں گے اور نوجوانوں کو مایوسی کے بجائے امید کا راستہ دکھائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے کسی ایک صوبے میں بدامنی پورے ملک کے لیے خطرہ ہے اور کسی ایک خطے کی ترقی پورے پاکستان کی کامیابی ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر الگ الگ جغرافیائی شناختیں ضرور رکھتے ہیں، مگر قومی اعتبار سے سب ایک ہی پاکستان کا حصہ ہیں۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کا ایک سالہ سفر ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے سب سے پہلے پاکستانی قوم کو متحد کرنا ہوگا۔ امن ہوگا تو تعلیم ترقی کرے گی، امن ہوگا تو معیشت آگے بڑھے گی، امن ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی، امن ہوگا تو نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں گے اور امن ہوگا تو پاکستان دنیا میں ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار ملک کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے گا۔

ہمیں ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کرنی ہے جہاں مسجد کا منبر امن کا پیغام دے، مدرسہ علم اور اعتدال کا مرکز ہو، یونیورسٹی تحقیق اور کردار سازی کا گہوارہ بنے، میڈیا قومی ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے، سوشل میڈیا نفرت کے بجائے شعور کا ذریعہ بنے، نوجوان پاکستان کے مستقبل پر یقین رکھیں، اقلیتیں خود کو محفوظ اور باعزت شہری سمجھیں، مختلف مکاتبِ فکر ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ رہیں، علماء و مشائخ قومی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں اور ریاستی ادارے و عوام ملکی دفاع، امن اور ترقی کے لیے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

یہی قومی پیغامِ امن کا مقصد ہے۔ یہی پاکستان کی ضرورت ہے۔ یہی شہداء کی قربانیوں کا تقاضا ہے اور یہی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ذمہ داری ہے۔

ایک سال کا سفر مکمل ہوا ہے، لیکن امن کا سفر ابھی جاری ہے۔ یہ سفر کسی ایک شخصیت، ادارے یا جماعت کا سفر نہیں بلکہ پوری قوم کا سفر ہے۔ اس سفر میں ہر پاکستانی کا حصہ ہے۔ ہمیں اپنے منبر سے، اپنے قلم سے، اپنے ادارے سے، اپنی کلاس روم سے، اپنے میڈیا پلیٹ فارم سے، اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اور اپنے روزمرہ کردار سے امن، اتحاد اور پاکستان کی مضبوطی کا پیغام دینا ہوگا۔

آئیے عہد کریں کہ ہم پاکستان کو اپنے اختلافات سے بڑا سمجھیں گے، اپنی نفرتوں سے محبت کو، اپنی تقسیم سے اتحاد کو، اپنی مایوسی سے امید کو اور اپنے ذاتی مفادات سے قومی مفاد کو ترجیح دیں گے۔ ہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متحد رہیں گے، شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے، آئین و قانون کی پاسداری کریں گے، بین المسالک و بین المذاہب احترام کو فروغ دیں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پرامن، مضبوط، مستحکم، خوشحال اور متحد پاکستان چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان صرف ہماری سرزمین نہیں، ہماری ذمہ داری بھی ہے۔

قومی پیغامِ امن دراصل ایک پیغام نہیں، ایک قومی عہد ہے؛ اور یہ عہد ہے کہ پاکستان کو امن کا گہوارہ، اتحاد کی علامت اور استحکام کی مضبوط مثال بنایا جائے۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

 تحریر: ڈاکٹر علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ,رکن قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں