پاکستان کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

4



پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی غیر مشروط حمایت  کا اعلان کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا کہ مکہ معاہدہ خطے کی سلامتی کو ڈیٹرنس کے ذریعے یقینی بنانے والا دفاعی اتحاد ہے، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل مکہ معاہدے کے تحت مشاورت جاری ہے،مکہ معاہدہ بعد میں یکساں سوچ رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ بھارت بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت یورپ، امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی دہشتگردی میں ملوث ہے۔

واضح رہے سجاد حیدر خان پاکستانی دفتر خارجہ کے نئے ترجمان ہیں،انہوں نے 2 ستمبر 2026 کو یہ عہدہ سنبھالا،میڈیا نمائندوں کو آج ان کی پہلی نیوز بریفنگ ہے۔

حوثی حملے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ
ترجمان دفترخارجہ سجاد حیدر نے سعودی عرب پرحوثیوں کےحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔

پاکستان نے سعودی عرب کی سالمیت اور خودمختاری کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی حملے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے حوثی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیےکوششیں جاری رکھے گا۔

نارووال میں ہندو مندر سے متعلق جھوٹے دعوے مسترد
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے بھارتی وزارت خارجہ کے آدھا سراج نارووال میں ہندو مندر سے متعلق جھوٹے اور سیاسی محرکات پر مبنی دعوے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی دعووں کے برعکس آدھا سراج نارووال میں مندر کی عمارت 21 جولائی کو موسلادھار بارشوں کے باعث متاثر ہوئی۔

مندر کو نقصان پہنچنے کے بعد حکام نے صورتحال کا جائزہ لیا اور بحالی کے اقدامات شروع کیے،بھارت کی جانب سے حقائق کو جان بوجھ کر مسخ کرنے اور اقلیتوں کے منظم ظلم و ستم سے توجہ ہٹانے کی کوشش قابل مذمت ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کا اپنا ریکارڈ موجود ہے۔

پاکستان نے 5 ستمبر 2026 کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں صدیوں پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی شدید مذمت کی۔تاریخی اسلامی عبادت گاہ کی تباہی بھارت میں اسلامی ورثے کو نشانہ بنانے والی وسیع تر اسلاموفوبک اور ہندوتوا پر مبنی مہم کا ایک اور مظہر ہے۔

بھارت میں اسلامی ورثے کو نشانہ بنانے کی مہم 1992 میں چار سو سالہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے ۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے منظم ظلم و ستم، عبادت گاہوں کی مسلسل بے حرمتی و تباہی اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کا نوٹس لے۔پاکستان نے مذہبی آزادیوں اور مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل غیر قانونی قبضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے،جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر تاحال حل طلب مسئلہ ہے۔

یاسین ملک کی بگڑتی صحت پر تشویش
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حریت رہنما یاسین ملک نے بہادرانہ مؤقف اپنا کر بھارتی عدالتی نظام کو بےنقاب کیا۔

پاکستان یاسین ملک اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی فورمز پر بات کرتا رہے گا۔

نیپال کی امداد
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارروائیوں کے لئے 100 ٹن اشیا بھیجی گئیں،وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے نیپالی سفارت خانے کا دورہ کر کے اظہار تعزیت بھی کیا۔

ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی
ترجمان دفتر خارجہ نےمزید بتایا کہ پاکستان اگلے سال  4 سے 11 اپریل تک ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کرے گا، سیف گیمز کے 8 روزہ مقابلے اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں منعقد ہوں گے۔

سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا گیمز کے لیے دعوت نامے اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے جا چکے ہیں، کسی کے شریک ہونے یا نہ ہونے کے باوجود گیمز ہوں گی، توقع ہے کہ تمام ممالک جنوبی ایشیا گیمز شریک ہوں گے۔

گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی حمایت
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے،تقریباً 160 ممالک نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی حمایت کا اظہار کیا ،

60سے زائد ممالک گلوبل گورننس کے دوست ممالک کے گروپ میں شامل ہو چکے ہیں،انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔

گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے لیے وسیع پیمانے پر عالمی حمایت پہلے ہی دیکھی جا سکتی ہے، پاکستان نے ہمیشہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی حمایت اور فعال عملدرآمد کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں